18 مارچ 2010 - 20:30

مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی کی رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای مسلمانان عالم کی قائد کی حیثیت سے شائستہ ترین اور مناسب ترین شخصیت ہیں اور ان کا موقف ہی فیصلہ کن ہونا چاہئے۔

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی روز خُمین ڈویژن کے ائمۂ جمعہ، علماء، طالبعلموں اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے حضرت آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا: خمین ایک اسلامی اور انقلابی علاقہ ہے جس نے انقلاب اور دفاع کے تمام مراحل میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور اس علاقے کے عوام تمام مراحل میں حاضر و موجود اور ہوشیار و بیدار رہے ہیں۔

آیت‌اللہ العظمی حسین نوری ہمدانی نے حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران اپنی تاریخ میں ہمیشہ استبدادی حکمرانوں اور گوناگوں فرمانرواؤں کے زیر تسلط رہا ہے جنہوں نے محلات کی تعمیر اور اپنی دنیا کو آباد کرنے کی غرض سے عوام کو مالی و اقتصادی فقر و افلاس سے دوچار کیا ہے۔

انھوں نے کہا: امام خمینی (رح) نے انتہائی شجاعت اور منفرد توانائی کے ذریعے استبداد کے چنگل سے رہائی کا راستہ کھول دیا۔

آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے امام خمینی (رح) کے قیام کو عوام کے متن سے اٹھا ہوا قیام قرار دیتے ہوئے کہا: تاریخ کی مقدرات تبدیل کرنے والی فیصلہ کن تحریکوں کی جڑیں عوامی تحریکوں میں پیوست ہوتی ہیں اور اس کی اعلی ترین مثال ایران کا اسلامی انقلاب ہے۔ 

 آیت‌اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا کہ امام خمینی (رح) نے 1963 سے ہی عوام میں بصیرت اور بیداری پیدا کرنے کی تحریک کا آغاز کیا تا کہ عوام کھلی آنکھوں سے اپنی تقدیر رقم کرنے کا فیصلہ کریں اور مصلحت کا بخوبی ادراک کریں۔

انھوں نے 1978 میں روزنامہ اطلاعات کی جانب سے امام خمینی (رح) کی توہین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے امام کی توہین کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی اور جو تحریک قم سے شروع ہوئی تھی وہ دوسرے شہروں تک بھی پھیل گئی۔

آیت‌اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا: اسلامی انقلاب بہت دشواری اور مصائب اور صعوبتین برداشت کرنے کے بعد حاصل ہوا ہے اور اس کی حفاظت کے لئے تدبیر اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے عوام کے درمیان ولایت اور رہبری کی حیثیت و مقام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے 23 سال تک تبلیغ اسلام کرنے کے بعد امیرالمؤمنین اور ائمہ علیہم السلام کو مسلمانوں کے درمیان جانشین بنا کر مقرر فرمایا تا کہ وہ لوگوں کی ہدایت کے سلسلے میں روشن چراغ کا کردار ادا کرتے رہیں۔

آیت‌اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا: دین مبین اسلام کی تعلیمات سے ثابت ہے کہ فتنے رونما ہونے کی صورت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام معصوم علیہ السلام اور ولی فقیہ کا کلام فصل الخطاب، فیصلہ کن اور آخری کلام ہے۔

انھوں نے کہا: امام خمینی (رح) نے مختصر سے خطاب میں بنی صدر کے فتنے کی آگ کو بجھا دیا اور لوگوں کو آگہی اور بصیرت بخشی۔

تہران کے حالیہ واقعات اور مٹھی بھر بلوائیوں کی جانب سے شرانگیز اور المناک نعرے ـ جن کی مغربی دنیا کی تشہیراتی مہم اور مغربی ممالک کے حکام ـ جیسے اوباما، فرانس اور اسلام دشمن قوتوں ۔ نے حوصلہ افزائی کی، اس حقیقت کی علامت ہے کہ بعض افراد نے غلط راستے کا انتخاب کیا ہے۔

شیعیان عالم کی اس مرجع تقلید نے سورہ نساء کی آیت 65 (1)  کی تلاوت کرکے کہا: اسلام میں کوئی بند گلی نہیں ہے اور مشکل اور تفرقہ و اختلاف رونما ہونے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، ائمہ علیہم السلام اور ولی فقیہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور یہ فصل الخطاب ہیں۔

---

1۔ فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا

آپ کے پروردگار کی قسم! وہ ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اپنے درمیان تنازعات حل کرانے کے لئے اپنے درمیان تنازعات میں آپ کو فیصلہ کرنے کی دعوت نہ دیں اور آپ کے فیصلے پر اپنے دل میں ناراضگی کا احساس نہ کریں بلکہ پوری طرح سرتسلیم خم کریں۔